سیدھا کیلکولیٹر پر جائیں

100% نجی۔ آپ کا مالی ڈیٹا آپ کی ڈیوائس پر ہی پراسیس ہوتا ہے اور کبھی باہر نہیں جاتا۔

پاکستان کے لیے گھریلو بجٹ کیلکولیٹر

اپنے ماہانہ بل درج کریں۔ دیکھیں آپ کے پیسے کہاں جاتے ہیں، کم خرچ کرنے کے آسان طریقے، اور آپ کتنا بچا سکتے ہیں۔

مفت۔ سائن اپ کی ضرورت نہیں۔ 13 کرنسیوں میں کام کرتا ہے، جن میں لاکھ اور کروڑ میں روپے بھی شامل ہیں۔

یہ ٹول کیسے کام کرتا ہے

  1. 1اپنے بل درج کریںایک عام مہینے میں آپ کا خرچ۔
  2. 2ہم عام گھرانوں سے موازنہ کرتے ہیںہر بل کا آپ جیسے گھروں سے۔
  3. 3ہم تبدیلیاں تجویز کرتے ہیںہر بچت کے پیچھے پورے حساب کے ساتھ۔
  4. 4دیکھیں آپ کتنا بچا سکتے ہیںماہانہ، سالانہ اور وقت کے ساتھ۔

مرحلہ 1 از 4

آپ کی آمدنی کتنی ہے؟

صرف دیکھ رہے ہیں؟

پیسوں کے مشورے · 5 منٹ کی پڑھائی

گھر کے خرچ میں 5 چھپے ہوئے رساؤ (اور انہیں آج ہی کیسے بند کریں)

زیادہ تر گھرانوں کا اصل مسئلہ زیادہ خرچ نہیں بلکہ پیسوں کا رساؤ ہوتا ہے۔ کرایہ، بچوں کی فیس یا گاڑی کی قسط جیسے بڑے خرچ پر تو سب کی نظر رہتی ہے۔ لیکن چھوٹے چھوٹے، ہر مہینے کٹنے والے خرچ خاموشی سے ہزاروں روپے لے جاتے ہیں۔ یہ خرچ الگ الگ چھوٹے لگتے ہیں، اس لیے احتیاط سے گھر چلانے والوں سے بھی چھوٹ جاتے ہیں۔

اچھی خبر یہ ہے کہ رساؤ والا پیسہ سب سے آسانی سے واپس آتا ہے۔ اکثر وہی زندگی، بس کم پیسوں میں۔ یہ ہیں پاکستانی گھروں کے پانچ عام چھپے رساؤ، اور وہ آسان قدم جو آپ آج ہی اٹھا سکتے ہیں۔

1بجلی کا بل، گیس گیزر اور لوڈشیڈنگ کا خرچ

بہت سے گھروں میں بجلی کا بل مہینے کا سب سے بھاری بل ہوتا ہے، اور گرمیوں میں یہ آسانی سے Rs 15,000 سے Rs 30,000 تک جا سکتا ہے۔ اصل رساؤ اکثر یونٹس کا سلیب ہے۔ جو گھر لگاتار چھ مہینے 200 یونٹ تک رہیں، انہیں "پروٹیکٹڈ" ریٹ ملتا ہے۔ ایک مہینہ بھی 200 سے اوپر گیا تو یہ سہولت اگلے چھ مہینے کے لیے جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی پلگ میں لگے چارجر، ٹی وی اور وائی فائی دن رات تھوڑی بجلی کھاتے رہتے ہیں۔ پھر لوڈشیڈنگ میں جنریٹر کا پیٹرول اور UPS کی کمزور بیٹریاں، اور سردیوں میں سارا دن جلتا گیس گیزر۔

اسے کیسے بند کریں

  • اپنے بل پر پچھلے چھ مہینوں کے یونٹس دیکھیں۔ اگر آپ 200 کے قریب ہیں تو مہینے کے بیچ میں میٹر پڑھ لیں، تاکہ حد پار ہونے سے پہلے استری، موٹر اور گیزر کا استعمال کم کر سکیں۔
  • AC کو 26°C کے آس پاس رکھیں اور ساتھ پنکھا چلائیں۔ نیا AC لینا ہو تو انورٹر AC پر غور کریں۔
  • پرانے بلب اور ٹیوب لائٹس LED سے بدل دیں، جو کافی کم بجلی لیتی ہیں۔ لوڈشیڈنگ کے لیے جنریٹر کے گھنٹے کم کریں: UPS یا چھوٹے سولر اور بیٹری سسٹم پر صرف پنکھے، لائٹس اور راؤٹر چلائیں، اور گرمیوں سے پہلے جنریٹر اور بیٹریوں کی سروس کروا لیں۔
  • گیس گیزر پر ٹائمر لگوائیں تاکہ پانی صرف صبح اور شام گرم ہو، چھت پر گرم پانی کے پائپ ڈھانپ دیں، اور سردیوں میں گیزر کا بجلی والا راڈ بند رکھیں۔

2موبائل پیکجز، انٹرنیٹ اور سبسکرپشنز

گھر کے ہر فرد کا موبائل پیکج، گھر کا انٹرنیٹ، کیبل، Netflix یا YouTube Premium، کلاؤڈ اسٹوریج اور وہ "مفت ٹرائل" جو چپکے سے پیسوں والا بن گیا۔ ہر ایک چند سو روپے کا لگتا ہے، اس لیے کوئی جوڑ کر نہیں دیکھتا۔ لیکن کئی گھروں میں یہ سب مل کر ہر مہینے کئی ہزار روپے بن جاتے ہیں، جن میں سے کچھ چیزیں کوئی استعمال بھی نہیں کرتا۔

اسے کیسے بند کریں

  • پچھلے تین مہینوں کی بینک، کارڈ اور موبائل والٹ کی اسٹیٹمنٹ دیکھیں اور ہر بار بار کٹنے والی رقم کی فہرست بنائیں۔ جو چیز پچھلے مہینے دو بار سے کم استعمال ہوئی، اس پر نشان لگائیں۔
  • اسٹریمنگ ایپس ایک وقت میں ایک رکھیں: ایک لیں، جو دیکھنا ہے دیکھیں، بند کریں اور پھر اگلی لیں۔ اگر گھر میں انٹرنیٹ پر سب دیکھا جاتا ہے تو کیبل کی ضرورت پر بھی سوچیں۔
  • گھر کے ہر فرد کا موبائل پیکج دیکھیں: جو زیادہ تر گھر کے وائی فائی پر رہتا ہے، اسے چھوٹا پیکج کافی ہو سکتا ہے۔ انٹرنیٹ کمپنی سے سستے پلان کا بھی پوچھیں۔
  • کسی بھی مفت ٹرائل کے ختم ہونے سے دو دن پہلے فون میں یاد دہانی لگا لیں۔

3راشن کا ضیاع اور باہر کھانے کا خرچ

بہت سے گھروں میں راشن کرائے کے بعد سب سے بڑا خرچ ہوتا ہے۔ ایک خاندان کا مہینے کا راشن آسانی سے Rs 60,000 یا اس سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس میں رساؤ کئی جگہ سے آتا ہے: فریج میں خراب ہوتی سبزیاں اور بچا ہوا سالن، روز روز کے چھوٹے چکر جن میں فہرست کے باہر کی چیزیں آ جاتی ہیں، اور ہفتے کے بیچ آن لائن کھانا منگوانا۔ باہر سے آنے والا کھانا اکثر گھر کے کھانے سے کئی گنا مہنگا پڑتا ہے، اور ڈیلیوری چارج الگ۔

اسے کیسے بند کریں

  • خریداری کی فہرست بنانے سے پہلے دیکھیں کہ فریج اور کچن میں پہلے سے کیا ہے، اور اسی کے حساب سے ہفتے کا مینو طے کریں۔
  • آٹا، چاول، دالیں، گھی اور چینی مہینے میں ایک بار تھوک یا بڑی مارکیٹ سے لیں، اور سبزی پھل اتوار بازار یا منڈی سے، جہاں عموماً سستے ملتے ہیں۔
  • ہفتے میں ایک بار فہرست لے کر خریداری کریں، اور ہفتے میں ایک دن بچے ہوئے کھانے کا رکھیں تاکہ فریج خالی ہو۔
  • ہفتے میں دو بار باہر سے منگوانے کے بجائے آسان گھریلو کھانا بنائیں، اور دفتر کے لیے گھر سے لنچ لے جائیں۔

4پیٹرول، سواری اور انشورنس بغیر سوچے

پیٹرول کی قیمت ہر کچھ ہفتے بعد بدلتی ہے، اس لیے گاڑی یا موٹر سائیکل کا خرچ ہر مہینے اوپر نیچے ہوتا رہتا ہے۔ اس کا بڑا حصہ عادتوں سے بنتا ہے: الگ الگ چھوٹے چکر، ٹریفک میں کھڑی چلتی گاڑی، کم ہوا والے ٹائر، اور ایک ہی جگہ جاتے ہوئے دو دو گاڑیاں۔ گاڑی کی انشورنس بھی خاموش رساؤ ہے۔ بہت سے لوگ ہر سال بغیر ریٹ ملائے پالیسی تجدید کروا لیتے ہیں، جبکہ گاڑی پرانی ہونے کے ساتھ اس کی قیمت کم ہو چکی ہوتی ہے۔

اسے کیسے بند کریں

  • ہفتے کے سارے کام ایک ہی چکر میں نمٹائیں، اور اسکول یا دفتر کے لیے رشتہ داروں یا ساتھیوں کے ساتھ پک اینڈ ڈراپ شیئر کریں۔
  • ٹائروں میں صحیح ہوا رکھیں، انجن کی سروس وقت پر کروائیں، اور ٹریفک میں لمبا رکنا ہو تو انجن بند کر دیں۔
  • جہاں میٹرو بس یا اچھی بس سروس ہو، اس کا خرچ گاڑی کے پیٹرول اور پارکنگ سے ملا کر دیکھیں۔ رائیڈ ایپس میں کرایہ ملا کر دیکھیں۔
  • ہر سال تجدید سے پہلے دو تین انشورنس کمپنیوں سے ریٹ لیں، اور یہ دیکھیں کہ گاڑی کی بیمہ شدہ قیمت آج کی مارکیٹ قیمت کے مطابق ہے۔

5بے سوچے خریداری اور مہنگا کریڈٹ کارڈ قرض

سیل کے دنوں کی آن لائن خریداری، رات گئے کا آرڈر، "بس یہ بھی لے لیتے ہیں" والی چیزیں: یہ رساؤ سب سے مشکل سے نظر آتا ہے کیونکہ یہ کبھی ایک بل کی صورت میں نہیں آتا۔ فون میں محفوظ کارڈ اور ایک کلک کی ادائیگی وہ ذرا سا وقفہ ختم کر دیتی ہے جو عموماً ہمیں روک لیتا۔ اگر یہ خریداری کریڈٹ کارڈ پر ہو اور پورا بل وقت پر ادا نہ ہو، تو سود بہت تیزی سے بڑھتا ہے۔ پاکستان میں کارڈ کا سالانہ سود اکثر 34% سے 44% کے درمیان ہوتا ہے۔ تقریباً 38% پر Rs 1 لاکھ کے بقایا پر صرف سود میں تقریباً Rs 3,000 ماہانہ سے زیادہ لگ سکتے ہیں۔

اسے کیسے بند کریں

  • 24 گھنٹے کا اصول اپنائیں: کوئی بھی غیر ضروری چیز خریدنے سے پہلے پورا ایک دن انتظار کریں۔ اکثر خواہش خود ہی ختم ہو جاتی ہے۔
  • شاپنگ ایپس سے محفوظ کارڈ ہٹا دیں، ان کی نوٹیفکیشنز بند کریں، اور سیل والی چیز صرف تب لیں جب وہ پہلے سے آپ کی فہرست میں ہو۔
  • سب سے زیادہ سود والا قرض پہلے اتاریں: ہر قرض کی کم از کم قسط دیں، اور جو بھی اضافی رقم بچے وہ سب سے مہنگے قرض، عموماً کریڈٹ کارڈ، میں ڈالیں۔
  • "آسان اقساط" پر چیز لینے سے پہلے کل رقم جوڑ کر دیکھیں: پروسیسنگ فیس اور سود ملا کر چیز کتنے کی پڑ رہی ہے۔ اگر بینک کارڈ کا بقایا کم سود والی قسطوں میں بدلنے کی پیشکش کرے، تو اس کی فیس اور شرح سود ضرور ملائیں۔

بند کیے گئے رساؤ کو اصل بچت میں بدلیں

رساؤ بند کرنے کا فائدہ تبھی ہے جب بچا ہوا پیسہ کسی کام کی جگہ جائے۔ سب سے مؤثر قدم یہ ہے کہ بچت کو تنخواہ آتے ہی الگ کر دیں۔ جس مہینے آپ کا بل کم ہو، اسی مہینے اتنی رقم بینک کے سیونگز اکاؤنٹ، نیشنل سیونگز، کسی میوچل فنڈ یا اپنے ایمرجنسی فنڈ میں ڈال دیں۔ بہت سے گھروں میں کمیٹی (BC) بھی یہی کام کرتی ہے: پیسہ ہر مہینے الگ ہو جاتا ہے اور روزمرہ کے خرچ میں نہیں آتا۔

وقت کے ساتھ چھوٹی رقمیں بڑی بن جاتی ہیں۔ اگر آپ ہر مہینے Rs 10,000 ایسی جگہ لگائیں جہاں اوسطاً سالانہ 12% منافع ملے، تو یہ دس سال میں تقریباً Rs 23 لاکھ اور بیس سال میں تقریباً Rs 99 لاکھ بن سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ مہنگائی بھی ساتھ بڑھتی ہے، اور منافع کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اوپر والے کیلکولیٹر میں اپنے نمبر ڈالیں، صرف وہ مشورے شامل کریں جو آپ کے گھر کے مطابق ہوں، اور مہنگائی کا حساب رکھنے کے لیے “آج کے پیسوں میں دکھائیں” آن کریں۔

اس ہفتے ایک رساؤ سے شروع کریں۔ آج رات اپنے بجلی کے بل پر یونٹس دیکھیں، کل گھر والوں کے موبائل پیکج اور ایپس کی فہرست بنائیں، اور اتوار کو اگلے ہفتے کا مینو اور راشن کی فہرست تیار کریں۔ ہر کام چند منٹ کا ہے، اور بچت ہر مہینے ہوتی رہے گی۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا اس کیلکولیٹر میں میرا مالی ڈیٹا محفوظ ہے؟

جی ہاں۔ ہر حساب آپ کے ویب براؤزر کے اندر ہی ہوتا ہے اور آپ جو کچھ لکھتے ہیں وہ کسی سرور پر نہیں بھیجا جاتا۔ آپ کے نمبر صرف آپ کے اپنے براؤزر کی لوکل اسٹوریج میں یاد رکھے جاتے ہیں، اور ری سیٹ بٹن انہیں حذف کر دیتا ہے۔

بچت کے اندازے کیسے لگائے جاتے ہیں؟

ہر تجویز اپنے متعلقہ بل پر ایک محتاط، عام بچت لاگو کرتی ہے، مثلاً توانائی بچانے کی عادتوں پر 12% یا مل کر سفر کرنے پر 15%۔ پورا حساب دیکھنے کے لیے کسی بھی تجویز پر "یہ حساب کیسے لگا؟" کھولیں۔ اگر دو تجاویز ایک ہی بل کم کریں تو دوسری صرف باقی رقم پر شمار ہوتی ہے، اس لیے بچت کبھی دو بار نہیں گنی جاتی۔

"میرے پلان میں شامل کریں" والا سوئچ کیا کرتا ہے؟

صرف وہ تجاویز جو آپ اپنے پلان میں شامل کریں، آپ کے ممکنہ خرچ، بچنے والی رقم، بڑھوتری کے چارٹ، اہداف کی تاریخوں اور قرض سے آزادی کی تاریخ میں شمار ہوتی ہیں۔ اگر کوئی تجویز آپ کی زندگی کے مطابق نہیں تو اسے بند کر دیں اور ہر نمبر فوراً اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔

50/30/20 بجٹ کا اصول کیا ہے؟

یہ ایک سادہ اصول ہے: ہاتھ میں آنے والی تنخواہ کا تقریباً آدھا لازمی بلوں پر خرچ کریں، جیسے رہائش، بجلی، راشن اور قرض کی قسطیں، تقریباً ایک تہائی شوق کی چیزوں پر، جیسے باہر کھانا اور سبسکرپشنز، اور تقریباً پانچواں حصہ بچائیں۔

بجٹ ہیلتھ اسکور کیسے نکالا جاتا ہے؟

0 سے 100 تک کا اسکور پانچ حصوں کو جمع کرتا ہے: آپ ہر مہینے کتنا بچاتے ہیں (30 پوائنٹس)، رہائش کا خرچ (20)، قرض (15)، ایمرجنسی بچت (20) اور شوق کی چیزوں پر خرچ (15)۔ ہر حصے کے ساتھ ایک جملہ ہے جو آپ کا نتیجہ اور ہدف بتاتا ہے۔

اپنی بچت کے لیے کون سی بڑھوتری کی شرح چنوں؟

محفوظ سیونگز اکاؤنٹ نے حال ہی میں سالانہ تقریباً 4% دیا ہے۔ مختلف شیئرز میں لمبے عرصے کی سرمایہ کاری نے لمبے ادوار میں اوسطاً سالانہ تقریباً 8% دیا ہے، لیکن یہ اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ بڑھوتری کبھی یقینی نہیں، اس لیے چند آپشن آزمائیں اور بڑھتی قیمتوں کا حساب رکھنے کے لیے "آج کے پیسوں میں دکھائیں" آن کریں۔

میرا ایمرجنسی فنڈ کتنا ہونا چاہیے؟

ایک عام اصول لازمی بلوں کے 3 سے 6 مہینے ہے۔ اگر گھر میں ایک ہی آمدنی ہے، تنخواہ بدلتی رہتی ہے، یا لوگ آپ پر انحصار کرتے ہیں تو زیادہ والا ہدف رکھیں۔ ٹول دکھاتا ہے کہ ابھی آپ کے پاس کتنا وقت ہے اور ہر سطح تک پہنچنے میں کتنا وقت لگے گا۔

کیا میں روپے اور دوسری کرنسیاں استعمال کر سکتا ہوں؟

جی ہاں۔ صفحے کے اوپر اپنا ملک چنیں، پھر کیلکولیٹر اسی ملک کی کرنسی، عام گھریلو اخراجات اور مقامی مشورے استعمال کرتا ہے۔ آپ USD، GBP، EUR، INR، PKR، AED، SAR، CAD، AUD، BRL، MXN، IDR اور NGN میں سے کوئی بھی کرنسی چن سکتے ہیں، اور روپے کی رقمیں لاکھ اور کروڑ میں دکھائی جاتی ہیں۔ دوسرے ممالک کے لیے عام اخراجات آپ کی آمدنی کے حصے کے طور پر نکالے جاتے ہیں۔

پیسوں کے الفاظ، آسان زبان میں

خالص آمدنی (ہاتھ میں آنے والی تنخواہ)
وہ رقم جو ٹیکس اور دوسری کٹوتیوں کے بعد آپ کو اصل میں ملتی ہے۔ اپنی آمدنی کے طور پر یہی رقم لکھیں۔
ایمرجنسی فنڈ
صرف اچانک حالات کے لیے الگ رکھی گئی بچت، جیسے نوکری چلی جانا یا کوئی بڑی مرمت۔ عام ہدف لازمی بلوں کے 3 سے 6 مہینے ہے۔
شرح سود (APR)
ادھار لینے کا سالانہ خرچ، فیصد میں۔ 30% APR پر، پورے سال 100,000 کا قرض رہے تو تقریباً 30,000 سود لگتا ہے۔
مرکب بڑھوتری (کمپاؤنڈنگ)
جب آپ کی بچت پر منافع ملے، اور پھر اس منافع پر بھی منافع ملے۔ کئی سالوں میں بچت تیزی سے بڑھتی جاتی ہے۔
مہنگائی
وقت کے ساتھ قیمتیں آہستہ آہستہ بڑھتی ہیں، اس لیے اتنے ہی پیسوں سے ہر سال تھوڑا کم آتا ہے۔ سالانہ تقریباً 3% عام ہے۔
ضرورتیں اور خواہشیں
ضرورتیں وہ لازمی بل ہیں جیسے کرایہ، بجلی اور راشن۔ خواہشیں شوق کی چیزیں ہیں جیسے باہر کھانا، شاپنگ اور سبسکرپشنز۔
بیلنس ٹرانسفر
ایک کریڈٹ کارڈ کا بقایا کچھ عرصے کے لیے کم (اکثر 0%) سود والے دوسرے کارڈ پر منتقل کرنا، عموماً ایک بار کی فیس کے بدلے۔
لاکھ اور کروڑ
پاکستان اور بھارت میں بڑی رقمیں گننے کے طریقے۔ 1 لاکھ = 100,000۔ 1 کروڑ = 100 لاکھ = 10,000,000۔