سیدھا مواد پر جائیں

گائیڈ · 6 منٹ کی پڑھائی

50/30/20 کا اصول: حل شدہ مثالوں کے ساتھ وضاحت

بجٹ اکثر اس لیے ناکام ہوتے ہیں کہ وہ بہت تفصیلی ہوتے ہیں۔ درجنوں خانے، ہر رسید کا حساب، اور چند ہفتوں بعد زیادہ تر لوگ ہمت ہار دیتے ہیں۔

50/30/20 کا اصول شروع کرنے کا کہیں آسان طریقہ ہے۔ آپ ہاتھ میں آنے والی تنخواہ کو صرف تین حصوں میں بانٹتے ہیں: آدھا لازمی خرچ کے لیے، تہائی سے کچھ کم شوق کی چیزوں کے لیے، اور پانچواں حصہ بچت اور قرض اتارنے کے لیے۔ یہ گائیڈ ہر حصے کی وضاحت کرتی ہے، کئی کرنسیوں میں حل شدہ مثالیں دکھاتی ہے اور بتاتی ہے کہ جب آپ کی زندگی ان صاف ستھرے نمبروں میں پوری نہ آئے تو کیا کریں۔

50/30/20 کا اصول کیا ہے؟

50/30/20 کا اصول اس رقم کو بانٹنے کا ایک موٹا اندازہ ہے جو ٹیکس اور دوسری کٹوتیوں کے بعد ہر مہینے آپ کے ہاتھ میں آتی ہے:

  • 50% لازمی خرچ کے لیے: وہ چیزیں جن کی ادائیگی جینے اور کام کرنے کے لیے ضروری ہے
  • 30% شوق کی چیزوں کے لیے: وہ چیزیں جو زندگی کو خوشگوار بناتی ہیں لیکن ان کے بغیر بھی گزارا ہو سکتا ہے
  • 20% بچت اور قرض کے لیے: اپنا مستقبل بنانا اور جو قرض ہے اسے کم کرنا

یہ خیال امریکی مصنفین Elizabeth Warren اور Amelia Warren Tyagi نے اپنی کتاب All Your Worth میں مقبول کیا۔ آج دنیا بھر کے گھرانے اسے استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ یاد رکھنے میں آسان اور جانچنے میں فوری ہے۔

یہ ایک رہنما اصول ہے، قانون نہیں۔ اسے اپنے بجٹ کا پہلا خاکہ سمجھیں جسے بعد میں آپ اپنے حساب سے بدلتے ہیں۔

لازمی خرچ، شوق کی چیزیں اور بچت: کیا کہاں جاتا ہے

لازمی خرچ (تقریباً 50%)

وہ خرچ جو آپ آسانی سے بند نہیں کر سکتے:

  • کرایہ، ہوم لون کی قسط یا رہائش کا خرچ
  • بنیادی راشن
  • بجلی، گیس، پانی اور سادہ فون یا انٹرنیٹ پیکج
  • کام یا اسکول آنے جانے کا خرچ
  • اسکول کی فیس، دوائیں اور انشورنس
  • ہر قرض کی کم از کم قسط

شوق کی چیزیں (تقریباً 30%)

وہ چیزیں جو آپ اپنی مرضی سے لیتے ہیں:

  • باہر کھانا، ٹیک اوے اور فوڈ ڈیلیوری
  • اسٹریمنگ اور دوسری سبسکرپشنز
  • ضرورت سے زیادہ نئے کپڑے، گیجٹس اور مشغلے
  • چھٹیاں، سیر سپاٹا اور تحفے

بچت اور قرض (تقریباً 20%)

  • آپ کا ایمرجنسی فنڈ
  • بڑے مقاصد کے لیے بچت، جیسے گھر، شادی یا تعلیم
  • ریٹائرمنٹ یا پنشن کی بچت
  • کم از کم قسط سے زیادہ قرض کی اضافی ادائیگی

جہاں فیصلہ مشکل ہو وہاں ایک مشورہ: خود سے پوچھیں کہ اگر پیسے بہت تنگ ہوں تو کیا تب بھی آپ اس پر خرچ کریں گے؟ کسی چیز کا بنیادی ورژن لازمی خرچ ہے؛ اس سے بہتر ورژن شوق ہے۔ سادہ فون پیکج لازمی ہے؛ نیا ترین فون شوق ہے۔

پانچ کرنسیوں میں حل شدہ مثالیں

حساب ہر جگہ ایک ہی ہے: ہاتھ میں آنے والی تنخواہ کو 0.5، 0.3 اور 0.2 سے ضرب دیں۔ نیچے دی گئی رقمیں طریقہ سمجھانے کے لیے گول مثالیں ہیں، ہر ملک کی عام تنخواہیں نہیں۔

  • پاکستان، Rs 150,000 (ڈیڑھ لاکھ) ماہانہ: لازمی خرچ Rs 75,000، شوق کی چیزیں Rs 45,000، بچت اور قرض Rs 30,000
  • انڈیا، INR 60,000 ماہانہ: لازمی خرچ INR 30,000، شوق کی چیزیں INR 18,000، بچت اور قرض INR 12,000
  • امریکہ، USD 4,000 ماہانہ: لازمی خرچ USD 2,000، شوق کی چیزیں USD 1,200، بچت اور قرض USD 800
  • برطانیہ، GBP 2,500 ماہانہ: لازمی خرچ GBP 1,250، شوق کی چیزیں GBP 750، بچت اور قرض GBP 500
  • متحدہ عرب امارات، AED 12,000 ماہانہ: لازمی خرچ AED 6,000، شوق کی چیزیں AED 3,600، بچت اور قرض AED 2,400

ذہن میں حساب کرنے کا آسان طریقہ

  1. ہاتھ میں آنے والی تنخواہ کا آدھا کریں۔ یہ لازمی خرچ کی حد ہے۔
  2. تنخواہ کا دسواں حصہ نکالیں اور اسے دُگنا کریں۔ یہ آپ کی بچت کا ہدف ہے۔
  3. جو باقی بچے (دس میں سے تین حصے) وہ شوق کی چیزوں کے لیے ہے۔

ہمارا بجٹ کیلکولیٹر یہ تقسیم کسی بھی کرنسی میں آپ کے لیے کر دیتا ہے اور دکھاتا ہے کہ آپ کا اصل خرچ اس کے مقابلے میں کیسا ہے۔

اصول کو قدم بہ قدم کیسے استعمال کریں

  1. اپنی ہاتھ میں آنے والی تنخواہ معلوم کریں۔ وہ رقم لیں جو واقعی آپ کے اکاؤنٹ میں آتی ہے۔ اگر آمدنی بدلتی رہتی ہے تو پچھلے چند مہینوں کا محتاط اوسط لیں۔
  2. پچھلے مہینے کے خرچ کی فہرست بنائیں۔ بینک اسٹیٹمنٹ، موبائل والٹ کی ہسٹری اور رسیدیں سب کام آتی ہیں۔
  3. ہر چیز کو لازمی خرچ، شوق یا بچت میں ڈالیں۔ بالکل درست ہونے کی فکر نہ کریں۔
  4. 50/30/20 سے موازنہ کریں۔ کون سا حصہ بہت بڑا ہے؟ کون سا بہت چھوٹا؟
  5. ایک دو تبدیلیاں چنیں۔ چھوٹی اور حقیقت پسندانہ تبدیلیاں بڑی اکھاڑ پچھاڑ سے زیادہ دیر چلتی ہیں۔
  6. پہلے بچت الگ کریں۔ تنخواہ والے دن، شوق کی چیزوں پر خرچ کرنے سے پہلے، بچت کی رقم الگ اکاؤنٹ میں بھیج دیں۔

جب 50/30/20 آپ کی زندگی میں پورا نہ آئے

بہت سے گھرانوں میں لازمی خرچ آدھے سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ بڑے شہروں کا کرایہ، بڑا خاندان یا ایک ہی آمدنی لازمی خرچ کو 60% یا 70% تک لے جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ناکام ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اصول کو اپنے حساب سے بدلنا ہوگا۔

عام تبدیلیاں

  • 60/20/20 یا 70/20/10: لازمی خرچ کے لیے زیادہ، شوق کے لیے کم، اور کچھ بچت پھر بھی محفوظ۔ بہت سے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ پیسے تنگ ہوں تب بھی کم از کم تھوڑی سی باقاعدہ بچت جاری رکھیں۔
  • 50/20/30: اگر آپ مہنگا قرض اتار رہے ہیں یا گھر کے لیے بچت کر رہے ہیں تو کچھ عرصے کے لیے شوق کا کچھ حصہ بچت میں منتقل کر سکتے ہیں۔
  • کم یا بے قاعدہ آمدنی: جتنا بچا سکیں اس سے شروع کریں، چاہے چھوٹا حصہ ہو، اور آہستہ آہستہ بڑھائیں۔ ہماری گائیڈ بے قاعدہ آمدنی میں بچت میں مزید خیالات ہیں۔

کن باتوں کا دھیان رکھیں

  • خاندان کی مدد۔ پاکستان، انڈیا، خلیجی ملکوں اور بہت سی دوسری جگہوں پر والدین یا رشتہ داروں کو پیسے بھیجنا عام زندگی کا حصہ ہے۔ طے کریں کہ یہ لازمی خرچ ہے یا بچت میں سے جاتا ہے، اور ہمیشہ ایک ہی طرح رکھیں۔
  • بڑے سالانہ خرچ۔ عید، اسکول کی فیسیں اور سالانہ بل بارہ سے تقسیم کر کے ہر مہینے متعلقہ حصے میں الگ رکھے جا سکتے ہیں۔
  • زیادہ سود والا قرض۔ اگر آپ پر کریڈٹ کارڈ کا قرض ہے تو اضافی رقم وہاں لگانا اکثر کم شرح پر بچت کرنے سے زیادہ فائدہ دیتا ہے۔ ہماری کریڈٹ کارڈ قرض کی گائیڈ دیکھیں۔

اسے عادت کیسے بنائیں

بجٹ تبھی کام کرتا ہے جب آپ بار بار اس کی طرف لوٹیں۔ مہینے میں ایک بار، بہتر ہے تنخواہ کے فوراً بعد، اپنے تینوں حصے دیکھیں۔ اگر لازمی خرچ آہستہ آہستہ بڑھ گیا ہے تو پہلے سب سے بڑے بل دیکھیں، جیسے رہائش، کھانا اور بجلی۔ اگر شوق کی چیزیں بار بار حد سے نکل جاتی ہیں تو ان کے لیے نقد یا الگ کارڈ میں ہر ہفتے ایک طے شدہ رقم رکھ کر دیکھیں۔

جب آمدنی بڑھے تو کوشش کریں کہ لازمی خرچ تقریباً اتنا ہی رہے اور اضافے کا زیادہ تر حصہ بچت میں جائے۔ وقت کے ساتھ تقسیم 50/30/20 کے قریب، بلکہ اس سے بھی بہتر ہو سکتی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا 50/30/20 کا اصول کل آمدنی پر ہے یا ہاتھ میں آنے والی تنخواہ پر؟

یہ عام طور پر ہاتھ میں آنے والی تنخواہ پر ہوتا ہے، یعنی ٹیکس اور دوسری کٹوتیوں کے بعد بچنے والی رقم۔ اگر پنشن یا ریٹائرمنٹ کا حصہ تنخواہ آنے سے پہلے ہی کٹ جاتا ہے تو آپ اسے اپنے 20% میں گن سکتے ہیں۔

کیا 50/30/20 کے اصول میں کرایہ لازمی خرچ ہے؟

جی ہاں، رہائش لازمی خرچ ہے۔ اگر اکیلا کرایہ ہی تنخواہ کا بڑا حصہ لے لیتا ہے تو بجٹ چھوڑنے کے بجائے تقسیم بدل لیں، مثلاً 60/20/20۔

50/30/20 کے اصول میں قرض کی قسطیں کہاں جاتی ہیں؟

جو کم از کم قسط دینا لازمی ہے وہ لازمی خرچ میں جاتی ہے۔ قرض جلدی اتارنے کے لیے جو اضافی رقم دیں وہ بچت اور قرض والے 20% میں جاتی ہے۔

کیا 50/30/20 کا اصول کم آمدنی میں کام کرتا ہے؟

ہو سکتا ہے بالکل یہی نمبر پورے نہ آئیں، کیونکہ لازمی خرچ اکثر آدھے سے زیادہ ہوتا ہے۔ پھر بھی خیال کام کا ہے: اپنا لازمی خرچ جانیں، شوق کی چیزیں قابو میں رکھیں اور ہر مہینے کچھ نہ کچھ بچائیں، چاہے تھوڑا ہی ہو۔

متعلقہ گائیڈز

ذرائع

یہ گائیڈ صرف عام معلومات کے لیے ہے۔ یہ مالی، ٹیکس یا قانونی مشورہ نہیں ہے۔ اعداد و شمار مثالیں یا عام رہنما اصول ہیں؛ دیکھ لیں کہ آپ پر کیا لاگو ہوتا ہے۔